بانٹوا میمن جماعت (رجسٹرڈ) کراچی
سماجی، فلاحی، اصلاحی اور معاشی خدمات کا طویل سفر
جماعت کا قیام، سن 2 جون 1950 بمطابق 15 شعبان 1369 ہجری
بانٹوا میمن جماعت (رجسٹرڈ) کراچی ایک سماجی، فلاحی، رفاہی اور اصلاحی ادارہ ہے جو دیگر تمام میمن جماعتوں میں سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔اس برادری کے افراد کا معاشرے میں ایک منفرد مقام ہے، چاہے وہ تجارتی و صنعتی شعبہ ہو یا اصلاحی میدان ہو، سرکاری و نیم سرکاری شعبہ ہو یا فلاحی کام ہو، ہر شعبے میں برادری کے ہر طبقے کے افراد کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔بانٹوا میمن برادری کا ایک اورقابلِ تعریف پہلو یہ ہے کہ اس مین اجتماعی زندگی کا شعور ہے جو کہ بانٹوا میمن جماعت(رجسٹرڈ) کی شکل میں موجود ہے۔
قیام پاکستان سے قبل بھارت کے صوبئہ گجرات میں کاٹھیاواڑمیں بانٹوا ایک چھوٹا سا شہر تھا جہاں بجلی نہیں تھی اور مواصلاتی نظام نہ ہونے کے برابر تھا۔اس کے باوجود پورے انڈیا اور بیرونی ممالک میں بانٹوا میمن برادری کی، تجارت و صنعت کے میدان میں بڑی شہرت تھی۔اُس دور میں برادری کے ہر فرد کی معاشی اور معاشرتی طور پر ایک دوسرے سے بڑی اچھی اور بےلوث جذباتی وابستگی نظر آتی تھی۔امیروغریب میں کوئی تفریق نہ تھی۔برادری کے لوگ اجتماعی زندگی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے اور بھائی چارے کی فضا میں بڑی پرسکون اور آسودہ زندگی گزار رہے تھے۔پھر کاٹھیاواڑ کی دھن نگری بانٹوا میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے اور 16 نومبر 1947 کو رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے بعد وہاں برسوں سے آباد میمن برادری نے ملکِ پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ بانٹوا برادری کے سرکردہ رہنماؤں نے تحریکِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا جس کی پاداش کی سزا انہیں دی جارہی تھی۔
مصیبت زدہ، تنگ دست اور ضرورت مند خاندانوں میں عزتِ نفس اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے جماعت کی جانب سے ہر ماہ ہزاروں روپے کی رقم بلاامتیاز تقسیم کی جاتی ہے۔ہر جماعت کی کامیابی کے پیچھے یقینی طور پر کچھ ایسے مخیّر حضرات، سماجی رہنماء اور سماجی کارکنان کی کاوشیں کارفرماء ہوتی ہیں جو نہ صرف اس کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ اسکے سفر کو آگے بڑھانے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ایسا ہی بانٹوا میمن جماعت (رجسٹرڈ) کراچی کے ساتھ بھی ہے۔اس جماعت نے اپنے قیام کے وقت سے ہی بڑے زبردست انقلابی اقدامات کئے اور بہترین قواعد و ضوابط کو وضع کیا۔
مثال کے طور پر بانٹوا میمن جماعت شروع سے ہی برادری میں رائج غلط رسوم ورواج کے خلاف آواز اٹھاتی رہی۔گھروں میں ہونے والی رنجشوں اور تنازعات کو ختم کرنے کے لئے بھی اس نے منصوبہ بندی کی اور کئی گھروں کو ٹوٹنے سے بچایا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بانٹوا میمن جماعت نے ہمیشہ مستحق اور ضرورت مند طالبعلموں کو اسکالر شپس دے کر انکے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کی ہے۔اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدرسوں وغیرہ میں جاکر انکی حوصلہ افزائی کرنا اور انھیں انعامات سے نوازنا بھی جماعت کا طرہ امتیاز رہا ہے۔یہ جماعت کی شب و روز کی کوششیں ہی ہیں جن کے سبب لیاری ٹاؤن، موسیٰ لین، میٹھادر اور کھارادر وغیرہ کے متاثرہ علاقوں کے خاندانوں کی آبادکاری میں خطیر رقم سے ہر ممکن مدد اور تعاون کیا گیا۔
پوری میمن برادری میں بانٹوا میمن جماعت کے تحت فلاحی اور رفاہی کاموں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ اس کی شب و روز کوششیں ہی ہیں جن کے باعث بانٹوا میمن برادری مسلسل ترقی کا سفر طے کر رہی ہے اور انشاءاللہ یہ سفر تاقیامت جاری رہے گا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اس برادری کو ہمیشہ ہی مخلص قیادت ملی جس نے اپنے آپ کو فراموش کر کے ہمیشہ اپنی برادری کی فلاح و بہبود و ترقی کے لئے کام کئے ہیں۔
2013 سے مستقل جاب فیئر کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں پاکستان کی بڑی بڑی کمپنیاں شرکت کرتی ہیں اور ایسے بے روزگار لڑکے و لڑکیاں جو نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں انھیں انکی تعلیم اور اہلیت کے مطابق نوکریاں فراہم کی جاتی ہیں۔
برادری کے مخیّر حضرات ہر سال عیدِ قربان کے موقع پر قربانی کی کھالیں اکٹھی کر کے اپنی عید کی خوشیوں کو بالائے طاق رکھ کر برادری کے غریب اور ضرورت مندوں کے لئے رقم اکٹھی کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جماعت کے اُس وقت کے عہدیداران اور بزرگوں نے 58 سال قبل پرنٹ میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جنوری 1956 میں ماہنامہ میمن سماج کا باقاعدہ اجراء کیا۔اس رسالے کے حوالے سے سوچ یہ تھی کہ یہ بانٹوا میمن جماعت کا ہاؤس جرنل ہوگا جو نہ صرف برادری کی ترجمانی کرے گا بلکہ اس مین برادری کی تازہ خبریں اور سرگرمیوں کی رپورٹیں شامل کر کے آگاہی دے گا۔درحقیقت اپنے مطلوبہ مقاصد کے ساتھ ساتھ برادری کی تاریخ، اسکی تہذیب اور ثقافت کو زندہ رکھنے بلکہ عوام الناس بالخصوص نوجوان نسل سے متعارف کروانے میں ماہنامہ میمن سماج اہم کردار ادا کر رہا ہے جو اسکی کامیابی اور پسندیدگی کا سب سے برا ثبوت ہے۔یہی وجہ ہے کہ باٹوا میمن جماعت مسلسل روشن اور تابندہ منزلوں کی جانب بڑھتی جارہی ہے۔
برادری کی ترقی و خوشحالی کے لئے جماعت کا سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کا مختصر احاطہ
آبادکاری کی اسکیمیں
شادی مدد
تعلیمی اسکالر شپ
ماہانہ امداد
سود سے پاک قرضہ برائے شادی
سود سے پاک قرضہ برائے کاروبار
کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ
حافظِ قرآن کا اعزاز
ایکسیلینٹ پرفارمنس ایوارڈ
قربانی کی کھالیں جمح کرنا
ایمپلائمنٹ بیورو (بیورو برائے بوروزگار)
ممبر شپ کارڈ کا اجراء
ٹیلینٹ اپ لفٹ(باصلاحیت طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کرنا)
جاب فیئر کا انعقاد
غلط اور غیر اسلامی رسوم و رواج پر کنٹرول
خاندانی جھگڑوں اور تنازعات کوحل کرنے میں مدد کرنا
جماعت خانے کی سہولیات
میمن سماج کی اشاعت
برادری کے آپس میں ملنے جلنے کی خاطر گیٹ ٹو گیدر پروگرامز کا انعقاد
برادری کے لئے مکان مدد (آبادکاری) اور شادی مدد کے لئے خطیر رقم دی جاتی ہے
برادری میں ہونےوالی شادیوں، منگنیوں اور اموات کے ریکارڈز تیار کرنا اور انہیں محفوظ رکھنا
بانٹوا میمن جماعت کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ 64 سالوں سے بانٹوا میمن جماعت (رجسٹرڈ) کراچی، بانٹوا برادری کی خدمت میں شب و روز مصروفِ عمل ہے۔دوسری خدمتی اور سماجی تنظیموں میں اس کا مقام سب سے بلند ہے۔اس جماعت کا نصب العین یہ ہے کہ بانتوا میمن برادری کی خدمت کی جائے، نادار لوگوں کی مالی مدد کی جائے۔برادری کے مستحق اور پسماندہ لوگوں کو رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مستحق اور غریب طلبہ و طالبات کو تعلیمی وضائف دیئے جائیں تاکہ وہ حسبِ خواہش اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔

نوٹ: بانٹوا میمن برادری کی معلومات کے لئے ان کتب و رسائل سے مدد لی گئی ہے۔
میمن برادری تاریخ کے آئینے میں (عثمان محمد باٹلی والا)
بانٹوا آج اور کل (عبدالرزاق تھاپلاوالا)
تاریخِ بانٹوا (انگریزی) (عبدالعزیز کایاں)
مسافتیں اور منزلیں (حاجی صدیق پولانی کی بایو گرافی)
پاکستان کے پچاس سال اور میمن برادری (یحییٰ ہاشم باوانی)
میمن شخصیات حصہ اول و دوم (عمر عبد الرحمٰن)
میری ڈائری (عمر عبد الرحمٰن)
ماہنامہ میمن سماج، ماہنامہ میمن عالم، ماہنامہ میمن ٹائمز اور دیگر رسائل واخبارات