اس شہر کی تباہی پاکستان کے استحکام کا سبب بن گئی
شہرِبانٹواکی تاریخ
تحقیق و تحریر : کھتری عصمت علی پٹیل

اٹھارہویں صدی کی ابتداء میں شہرِ بانٹوا چند جھگیوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی تھی۔جونا گڑھ میں بابی خاندان کی داغ بیل ڈالنے والے بہادر خان کے دو بھائی دلاور خان اورزور آور خان اپنے خاندان اور سپاہیوں کے ساتھ بانٹوا میں آکر آباد ہوگئے تھے، یہ بات سن 1733 ء کی ہے۔بہادر خان کا تعلق بابی خاندان سے تھا جو افغانستان کے یوسف زئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماناؤدر بانٹوا کے قریب ہی واقع تھا۔بعد میں دونوں بھائیوں نے اپنے لئے علاقے تقسیم کرلئے۔دلاور خان کے حصے میں ماناؤ در آیا اور بانٹوا زور آور خان کو ملا۔گویا یہ ثابت ہوگیا کہ بانٹوا شہر کو صحیح معنوں میں آباد کرنے اور اسکو ترقی دینے والا زور آور خان ہی تھا۔

اب ہم بات کرتے ہیں بیسویں صدی کی ابتدائی دہائی کی،یہ وہ زمانہ تھا جب کاٹھیاواڑ کے میمن تجارت کے لئے پورے ہندوستان کے طول وعرض میں پھیل چکے تھے۔ان سوداگروں کی بڑی تعداد کاٹھیاواڑ کے چھ سات شہروں میں تھی۔ان میں ریاست جوناگڑھ کے شہر بانٹوا اور کتیانہ سب سے آگے تھے۔

ایک ہندو وکیل نے لکھا ہے کہ

بانٹوا میں تین ارب پتی، 20کروڑ پتی اور لکھ پتی اس شہر کی گلی گلی میں تھے۔

اس بات کو اگر ہم مکمل طور پر صحیح تسلیم نہ بھی کریں تو بھی یہ بالکل حقیقت ہے کہ بانٹوا میں چھ سات کروڑ پتی اور کم و بیش 25 لکھ پتی موجود تھے۔اس کے علاوہ بانٹوا کے میمنوں نے اپنی تجارت سے جو شان وشوکت پیداکرلی تھی اس کا اندازہ درجِ ذیل عبارت کو پڑھ کر ہوجائے گا جو ہم نے بانٹواڈائیریکٹری سے لی ہے۔

بانٹوا کے میمن اس وقت کاٹھیاواڑ کے علاوہ اس کی اہم تجارتی منڈیوں ، کرناٹک،سانگلی،میرٹھ،ہوبلی،دھارواڑ،کلکتہ،بیاگام،بمبئی اور مدراس کے علاوہ آندھرا،بنگال،سندھ،پنجاب،اڑیسہ اور جنوبی ہند وغیرہ کی تجارتی منڈیوں میں اپنی شاخیں قائم کرچکے تھے۔وہ سیلون (موجودہ سری لنکا) ملایا،انڈوچائنا وغیرہ جیسے سمند ر پار ملکوں تک اپنی تجارت کا دائرہ وسیع کر چکے تھے۔کتنے ہی تجارتی اداروں کی ایک سو سے زیادہ شاخیں بیک وقت مختلف مقامات پر قائم تھیں۔اس وقت مدراس کی نصف تجارت تین اہم تجارتی اداروں کے ہاتھ میں تھی۔یہ تھے آدم حاجی پیر محمد(موجودہ آدم لمیٹڈ) حسین قاسم داد (موجودہ دادا لمیٹڈ) اور حاجی پیر محمد (موجودہ ارگ لمیٹڈ) ہندوستان کی بڑی بڑی صنعتوں کی اہم ایجنسیاں بانٹوا کے تاجروں کے ہاتھ میں تھیں۔ہندوستان ویجیٹیبل، ویسٹرن انڈیا ماچس کمپنی،ٹاٹا آئل، اسٹینڈرڈ ویکیوم اور کالٹیکس کے علاوہ چند غیر ملکی سگریٹ کی ایجنسیاں بھی ان کے پاس تھیں۔بیرونی تجارتی منڈیوں میں بانٹوا کے تاجروں کو بڑا اہم مقام حاصل تھا۔برما سے لاکھوں ٹن چاول ہندوستان آتا تھا جس کا تیسرا حصہ بانٹوا کے ایک تاجر کے ذریعے آتا تھا۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران حکومتِ برطانیہ نے ہندوستان کے بڑے بڑے برآمد کنندگان کی فہرست مرتب کروائی تھی جس میں ہندوستان کے چھ بڑے بڑے برآمد کنندگان کےنام شامل تھے اور اُن میں سے تین تاجر بانٹوا کے تھے۔

بانٹوا میں پاکستان کا جشن

ریاست جوناگڑھ پاکستان میں شامل نہیں ہوسکتی تھی مگر اُس کے مسلمانوں نے پاکستان کی آزادی کا جشن پورے جوش وخروش سے منایا تھا۔بانٹوا کے مسلمانوں نےبھی قیامِ پاکستان کی کی خوشی میں بھرپور جشن منایا۔میمن برادری کے اُس سب سے بڑے اور دولتمند شہر کو پاکستانی پرچموں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔دوپہر کے بعد کاروں،ٹانگوں اور اکھاڑا پارٹیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔اقبال چوک پر مولانا اکرم خان نے تالیوں اور نعروں کی گونج میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرایا۔رات کو پورے شہر میں چراغاں کیا گیا۔

پاکستان سے الحاق کا مطالبہ

9 ستمبر 1947 کو بانٹوا میمن جماعت کی جانب سے بانٹوا کے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا جسکی صدارت سیٹھ حسین قاسم داد نے کی، اس جلسے میں بانٹوا کو پاکستان میں شامل کرنے کا پُرجوش مطالبہ کیا گیا،ایک ہفتے بعد اِسی نوعیت کا ایک اور جلسہ ہوا۔غرض ان مطالبات کا یہ نتیجہ نکلا کہ بانٹوا شہر اور اُس کے قریبی شہر سردار گڑھ کے حکمرانوں نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔مگر صد افسوس کہ یہ الحاق کبھی نہ ہوسکا۔اسکی بہت سی وجوہات ہیں جن کو قلمبند کرنے کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہوگی۔صرف اتنا سمجھ لیجئے کہ متعصب ہندوؤں کی ہندوانہ ذہنیت نے ایسا نہ ہونے دیا۔ہندوؤں کے خیال میں اگر ریاست جوناگڑھ اور اُس کے قرب و جوار کے علاقے پاکستان میں شامل ہوجاتے توپھر پورا بھارت ختم ہوجاتا۔الغرض سیاسی بسات پر انگریز اور ہندو مل کر اپنے مہرے کھیلتے رہے اور مسلمانوں کو اُنکی سادہ لوحی اور امن پسندی کی سزا دیتے رہے۔ہندوؤں نے غلط بیانی سے کام لیا۔جو کچھ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ نہیں دیا گیا۔انگریزوں نے ہندوؤں کا ساتھ اس لئے دیا کیونکہ وہ اکثریت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔اس بات کے علاوہ انگریزوں نے بھی اس بات کا تہیہ کر رکھا تھا کہ جن لوگوں(مسلمان مغل بادشاہوں) سے انہوں نے اقتدار چھینا تھا وہ انہیں واپس نہیں کرنا چاہتے تھے۔چناچہ انگریزوں کی مکمل حمایت سے ہندو افواج نے ریاست جونا گڑھ،حیدرآباد اور کاٹھیاواڑ پر مکمل طور پر قبضہ کرلیا اور اُن علاقوں کے مسلمانوں کا یہ خواب کہ وہ بھی ایک آزاد اور اسلامی ملک میں شامل ہوں گے کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔سردار گڑھ اور بانٹوا کے لوگ حالانکہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار اور اعلان بھی کرچکے تھے مگر بھارت کی حاسد حکومت نے اپنے فوجی دستے بھیج کر اُن شہروں پر مکمل کنٹرول کرلیا۔اکتوبر 1947 میں بھارت نے بانٹوا پر قبضہ کیا اور وہ بھی بغیر کسی مقابلے کے۔

بانٹوا میں پاکستان کے حامی میمنوں کی اکثریت تھی مگر کبھی ہندوؤں اور مسلمانوں میں تعلقات خراب نہپیں ہوئے تھے۔لیکن بھارتی قبضے کے بعد فضاء بگڑنے لگی۔ہندوؤں کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرشروع کردیا۔

جھنڈاوندن (پرچم کشائی) کا واقعہ

جوناگڑھ پر بھارتی فوج کے قبضے کے بعد ہندوؤں نے جلوس نکالے اور قابلِ اعتراض نعرے لگائے۔شہر میں جگہ جگہ وندن (پرچم کشائی) کی تقریبات منعقد کی گئیں۔اس موقع پر شہر کے بڑے بڑے لوگوں کو بلایا گیا اور انہیں بھارتی جھنڈے کو ہاتھ جوڑ کر سلام کرنے کا حکم دیا گیا مگر سفید ریش مردِ شیر بزرگ سیٹھ حسین قاسم دادا نے جھنڈے کے سامنے سر جھکانے سے صاف انکار کردیااور کہا:‘‘ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا سر صرف خدائے واحد کے سامنے ہی جھکتا ہے اس کے سوا کسی کے سامنے نہیں۔

بانٹوا کی بربادی اور میمنوں کی ہجرت

جوناگڑھ پر بھارتی قبضے کے اگلے روز ہی کتیانہ میں خونریزی ہوئی اور خوب لُوٹ مار کی گئی۔اس کے ساتھ ہی بانٹوا کے آس پاس کے دیہات کے لوگ بھی میمنوں کے اس دولت مند شہر کو لُوٹنے کے منصوبے بنانے لگے۔

ایک دن اچانک کرفیو لگا دیا گیا اور لُٹیرے کھلم کھلا سامنے آگئے،جگہ جگہ آگ لگا دی گئی۔بڑے بازار کو نذرِ آتش کردیا گیا۔ہوائی فائرنگ کرکے لوگوں کو خوفزدہ کیا گیا۔اُن کے مکانوں کے دروازے زبردستی کھلوائے گئے اور میمنوں کی سالہا سال کی محنت اور تجارت کے نتیجے میں کمائی گئی بےتحاشہ دولت کوصرف ایک ہی رات میں لُوٹ لیا گیا۔سونا،چاندی،ہیرے جواہرات کے زیورات،نقدی،قیمتی ملبوسات غرض کون کون سی چیز تھی جو نہ لُوٹی گئی ہو۔خوفزدہ مسلمان خاموش،بےبس،اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو اپنی آنکھوں کے سامنے لُٹتا دیکھتے رہے۔بانٹوا کے کچھ محلے اُن لُٹیروں سے محفوظ رہےاُس کی وجہ یہ تھی کہ لُٹیرے ہندوؤں کو اندازہ تھا کہ اُن محلوں میں مزاحمت ہو سکتی ہے۔میمنوں کا مستقبل اب بانٹوا میں ختم ہو چکا تھا۔صبح کرفیا اٹھتے ہی انہوں نے اجتماعی ہجرت شروع کردی جو جتنا سامان اٹھا کر چل سکتا تھا اُتنا ہی اٹھا سکا،جگہ جگہ ان کی تلاشی لی گئی اور بہت سی چیزیں چھین لی گئیں۔اسٹیشن اور ٹرین میں سوار ہوتےوقت اُن کو تنگ اور پریشان کیا گیا۔ہجرت کا یہ سلسلہ 15 روز تک جاری رہا۔بانٹوا کے تقریباََ تمام میمن خاندان اوکھایا بمبئی پہنچے جہاں سے وہ کراچی چلےآئے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کتیانہ اور بانٹوا میں لُوٹ مار کے صرف ایک ماہ کے دوران دولت مند مسلمان تاجروں نے بھارت سے حبیب بینک کی معرفت80 کروڑ روپے پاکستان منتقل کردئے تھے۔غرض تجارتی چہل پہل اور گہما گہمی کا شہر بانٹوا اب ویران ہو گیا تھا۔اس بربادی کے بعد بانٹوا میں دوسری قومیں آباد ہوئیں لیکن وہ شان و شوکت اور جاہ و جلال حاصل نہ کرسکیں جو صرف میمنوں کے حصے میں آیا تھا۔بانٹوا کے میمنوں کے دور کی شان وشوکت اب صرف تاریخ کے اوراق کا حصہ ہے۔

میمنوں کی ہجرت کے بعد بانٹوا کی بدحالی

میمنوں کی ہجرت کے بعد بانٹوا میں سندھی ہندو پناہ گزین آباد ہوگئے۔1947 سے پہلے کا پیرس جیسا نفیس شہر اب کھنڈر بن گیا تھا۔جگہ جگہ غلاظت اور گندگی کے ڈھیر تھے۔صحت و صفائی کی طرف کوئی ترجہ نہیں دی جاتی تھی۔55-1954 میں بانٹوا کے پرانے مکانات توڑ کر نئے مکانات تعمیر کرنے کی مہم شروع ہوئی مگر نئے مکانات تو تعمیر نہ ہوسکے البتہ پرانے توڑ دئے گئے۔آج قدیم عروس البلاد بانٹوا میں تیس تیس فیٹ گہرے اور کھنڈرات موجود ہیں جو چینخ چینخ کر زبانِ حال سے اپنی قدیم عظمت اور جاہ و جلال کا اعلان کرتے ہیں۔

اب بانٹوا میں صرف 150 مسلمان آباد ہیں۔میمنوں کے شاید 3 یا 4 خاندان رہتے ہیں۔پہلے یہاں 19 مساجد تھیں مگر اب صرف ایک ہی جامع مسجد باقی ہے جس میں عید کی نماز نہیں ہوتی اسکے لئے ماناؤدر جانا پڑتا ہے۔عام دنوں میں 2 سے 4 اور جمعہ کے دن صرف 10 سے 15 نمازی ہوتے ہیں۔

بانٹوا کی بربادی کس طرح پاکستان کی خوشحالی بن گئی

صرف بانٹوا کے میمنوں کی ہجرت سے پاکستان کو کس قدر فوائد حاصل ہوئے ہیں ، اُن کا اندازہ جناب رئیس احمد جعفری کے اِن الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔

سردار گڑھ اور بانٹوا اگر ہندوستان کے قبضے میں نہ جاتے اور وہاں کے مسلمان ، ہندوؤں کے ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنتے تو پاکستان کو اتنا بڑا خطرہ پہنچ سکتا تھا کہ اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا۔سردار گڑھ اور بانٹوا میں بے شمار لکھ پتی میمن رہتے تھے اور انکا وسیع کاروبار ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلا ہوا تھا ۔انکا ہندوستان چھوڑ کر پاکستان جانے کا قطعی ارادہ نہ تھا ۔حالانکہ غریب پاکستان اُن کا منتظر تھا۔پاکستان کو سرمایہ دار مسلمانوں کی ضرورت تھی۔ہندو ساہوکار،تاجر اور صنعت کارجو قیامِ پاکستان سے پہلے سندھ میں آباد تھے وہ سندھ چھوڑ کر ہندوستان چلے گئےتھے جو کہ پہلے سے اُنکا طے شدہ منصوبہ تھا۔ان ہندوؤں نے کمال ہوشیاری اور مکاری سے اپنا سارا دھن دولت اور اپنا سارا سرمایہ پاکستان سے ہندوستان منتقل کر دیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ سندھ میں کسی بھی ہندو کو کسی بھی مسلمان سے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور نہ ہی کوئی خون خرابہ ہوا تھا۔کسی پر بھی ظلم کے پہاڑ نہیں توڑے گئے۔سندھ میں کسی بھی ہندو کی نکسیر تک نہیں پھوٹی تھی۔پھر وہ پاکستان سے ہندوستان کیوں گئے؟؟ اسکا بڑا اہم سبب تھا ۔وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کی معیشت کو اتنا بڑا دھچکا لگے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے۔ظاہر ہے اس وقت نومولود پاکستان بڑی نازک حالت میں تھا۔پاکستان میں نہ تو تاجرتھے اور نہ ہی صنعت کار، نہ سرمایہ دار تھے اور نہ ہی کوئی اور مالی طور سے مضبوط ستون ۔اُس حالت میں نوزائیدہ مملکت کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا ایک بہت بڑامشکل کام تھا،مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔

واقعی اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قائم و دائم رکھنے کے لئے وسیلہ پیدا فرما دیا۔بانٹوا اور سردار گڑھ کے میمن جب ہندوؤں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے تو اُنکی نگاہیں پاکستان کی طرف اٹھ گئیں۔بے شک یہ ان کی منزل تھی جو بانہیں پھیلائے انہیں اپنی طرف بُلا رہی تھی۔انہوں نے پاکستان ہجرت کی۔اپنی صلاحیتوں، اپنی مہارتوں اور اپنے مال و دولت سے نوزائیدہ مملکت کو مضبوط کرنے کا عزم کیا اور یہاں آتے ہی ہندوؤں کا چھوڑا ہوا کاروبار بڑی خوش اسلوبی اور لیاقت سے سنبھال لیا اور یہاں کے لوگوں میں اس طرح گھل مل گئے جیسے وہ صدیوں سے یہیں رہتے اورکام کرتے رہے ہوں۔

واقعی یہ ایک جزبہ عظیم ترین کامیابی تھی۔بانٹوا کے مسلمان میمنوں کے دلوں میں نورِ اسلام تھا۔شمعِ ہدایت روشن تھی۔انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں اور اسلام کے ن ام پر قائم کئے گئے پاکستان کے استحکام کے لئےاپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا اور آج پاکستان کے باوقار تاجروں میں شامل ہیں۔ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے ہیں اور قومی ترقی میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔بانٹوا کے میمن حضرات نے اپنا سابقہ وطن کھو یا تو نیا آزاد اسلامی مملکت کو پالیا۔اپنا کاروبار ختم کیا تو نیا کاروبار شروع کیا اور کامیابیاں انکا مقدر بنتی چلی گئیں۔